Similar Posts

  • |

    راستہ۔۔۔۔

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے ….کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام…

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    لرزتے ہونٹ کہیں کیا بھلا خدا حافظ اگر یہی ہے تمہاری رضا خدا حافظ پڑاؤ رات کا تھا زندگی کا تھوڑی تھا بُلا رہی ہے جرَس کی صدا خدا حافظ وہ میرے سانس کی صورت تھا میرے سینے میں پھر اک دن اُس نے اچانک کہا، خدا حافظ بدل چُکا ہے زمانہ بھی اور منزل…

  • | |

    نعتِ محبوبﷺ

    سجتي ہے سر ارضي یہ دستارِ مدینہاس شان سے رخشندہ ہیں انوار ِ مدینہ ہے حسرتِ دردار بھی اس آنکھ پہ قربانجس آنکھ میں ہے حسرتِ دیدارِ مدینہ کیوں رشک نہیں آئے بھلا شمس و قمر کوانوارِ مدینہ ہیں یہ انوارِ مدینہ سائے میں تیرے کاسہ لیے شاہ کھڑے ہیںکیا شان تری گنبدِ سرکارِ مدینہ…

  • اک عمر پڑی ھے

    اک عمر پڑی ھے فیض احمد فیض اِس وقت تو یوں لگتا ہے کہیی کچھ بھی نہیں ہے، مہتاب، نہ سورج، نہ اندھیرا، نہ سویرا آنکھوں کے دریچوں میی کِسی حسن کی چلمن، اور دِل کی پناہوں میں کِسی درد کا ڈیرا شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید، اب آ کے کرے گا…

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ‎ہم کسی کے ایک تھے کوئی ہمارا ایک تھا ‎رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اُجالے اب کُھلے ‎تُو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا ‎خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر ‎مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک…

  • |

    دریائے ھڈسن کے کنارے۔۔۔

    بات ہو رہی تھی، پی ایم سی کی، کلاس ۹۳ کی ہماری گیٹ ٹو گیدر کی، پھر سے مل بیٹھنےکی کسی نے کہا ، دریائےکنہار کے کنارے، ناران میں بان فائیر،صوفیکلام ،غلام شبیر بھائ کی آواز میں کسی نے مشورہ دیا وادئ کیلاش کا کلاس ٹرپ چلم جوش، رنگ برنگ، حسیں موسمِ بہار میں a…