mehboob kashmiri ghazal

Similar Posts

  • |

    راستہ۔۔۔۔

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے ….کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام…

  • |

    چھاوں کا سفر

    🌷🌷چھاؤں کا سفر🌷🌷 میری ماں موت کی آغوش میں بھی خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔۔ مجسم شکرو ایثارِ وفا جو زندگی بھر جھلس کر ہم کو ٹھنڈی چھاؤں دیتی تھی اب اسکی چاند سی روشن جبیں پر درد کی گہری شکن آ ہی گئی تھی پھر بھی اس کا زرد چہرہ پرسکون تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جب تک ہوش میں…

  • میرے حسین خواب

    علی سردار جعفری اے مرے حسیں خوابو تم کہاں سے آئے ہو کس افق سے ابھرے ہو کس شفق سے نکھرے ہو کن گلوں کی صحبت میں تم نے تربیت پائی کس جہاں سے لائے ہو یہ جمال و رعنائی میں نے تم کو دیکھا ہے یاد اب نہیں آتا شاید ایک لڑکی کی تھرتھراتی…

  • |

    ھم تم

    پی ایم سی کی بہاریں وہ گداز یادیں وہ چمکتے سے چہرے وہ دمکتی سی باتیں مدھم مدھم سے لہجے شگفتہ شگفتہ سی سوچیں رہ رہ کر ھم یاد کریں کہاں گئی وہ یادیں کہاں گئی وہ بہاریں چھپ گئے وہ چہرے کھو گئی وہ باتیں امید کی چند کرنوں میں آخری ہے باقی آئو…

  • اک عمر پڑی ھے

    اک عمر پڑی ھے فیض احمد فیض اِس وقت تو یوں لگتا ہے کہیی کچھ بھی نہیں ہے، مہتاب، نہ سورج، نہ اندھیرا، نہ سویرا آنکھوں کے دریچوں میی کِسی حسن کی چلمن، اور دِل کی پناہوں میں کِسی درد کا ڈیرا شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید، اب آ کے کرے گا…

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ‎ہم کسی کے ایک تھے کوئی ہمارا ایک تھا ‎رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اُجالے اب کُھلے ‎تُو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا ‎خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر ‎مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک…