Similar Posts

  • |

    راستہ۔۔۔۔

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے ….کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام…

  • محبوب

    میں چراغوں کے کام آتا ھوا بجھ گیا، روشنی بناتا ھوا وہ بھی دل میں مرے اترتی ھوئی میں بھی اس کو پسند آتا ھوا پھر وہ آنکھوں سے ھو گیا اوجھل دور تک ہاتھ کو ہلاتا ہوا جھیل میں تیرتا ہوا مہتاب دھن اداسی کی گنگناتا ہوا روز صحرا میں چھوڑ آتا ہے راستہ…

  • |

    چھاوں کا سفر

    🌷🌷چھاؤں کا سفر🌷🌷 میری ماں موت کی آغوش میں بھی خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔۔ مجسم شکرو ایثارِ وفا جو زندگی بھر جھلس کر ہم کو ٹھنڈی چھاؤں دیتی تھی اب اسکی چاند سی روشن جبیں پر درد کی گہری شکن آ ہی گئی تھی پھر بھی اس کا زرد چہرہ پرسکون تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جب تک ہوش میں…

  • |

    دریائے ھڈسن کے کنارے۔۔۔

    بات ہو رہی تھی، پی ایم سی کی، کلاس ۹۳ کی ہماری گیٹ ٹو گیدر کی، پھر سے مل بیٹھنےکی کسی نے کہا ، دریائےکنہار کے کنارے، ناران میں بان فائیر،صوفیکلام ،غلام شبیر بھائ کی آواز میں کسی نے مشورہ دیا وادئ کیلاش کا کلاس ٹرپ چلم جوش، رنگ برنگ، حسیں موسمِ بہار میں a…

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    لرزتے ہونٹ کہیں کیا بھلا خدا حافظ اگر یہی ہے تمہاری رضا خدا حافظ پڑاؤ رات کا تھا زندگی کا تھوڑی تھا بُلا رہی ہے جرَس کی صدا خدا حافظ وہ میرے سانس کی صورت تھا میرے سینے میں پھر اک دن اُس نے اچانک کہا، خدا حافظ بدل چُکا ہے زمانہ بھی اور منزل…

  • | |

    نعتِ محبوبﷺ

    سجتي ہے سر ارضي یہ دستارِ مدینہاس شان سے رخشندہ ہیں انوار ِ مدینہ ہے حسرتِ دردار بھی اس آنکھ پہ قربانجس آنکھ میں ہے حسرتِ دیدارِ مدینہ کیوں رشک نہیں آئے بھلا شمس و قمر کوانوارِ مدینہ ہیں یہ انوارِ مدینہ سائے میں تیرے کاسہ لیے شاہ کھڑے ہیںکیا شان تری گنبدِ سرکارِ مدینہ…