Similar Posts

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ‎ہم کسی کے ایک تھے کوئی ہمارا ایک تھا ‎رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اُجالے اب کُھلے ‎تُو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا ‎خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر ‎مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک…

  • |

    دریائے ھڈسن کے کنارے۔۔۔

    بات ہو رہی تھی، پی ایم سی کی، کلاس ۹۳ کی ہماری گیٹ ٹو گیدر کی، پھر سے مل بیٹھنےکی کسی نے کہا ، دریائےکنہار کے کنارے، ناران میں بان فائیر،صوفیکلام ،غلام شبیر بھائ کی آواز میں کسی نے مشورہ دیا وادئ کیلاش کا کلاس ٹرپ چلم جوش، رنگ برنگ، حسیں موسمِ بہار میں a…

  • |

    راستہ۔۔۔۔

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے ….کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام…

  • |

    چھاوں کا سفر

    🌷🌷چھاؤں کا سفر🌷🌷 میری ماں موت کی آغوش میں بھی خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔۔ مجسم شکرو ایثارِ وفا جو زندگی بھر جھلس کر ہم کو ٹھنڈی چھاؤں دیتی تھی اب اسکی چاند سی روشن جبیں پر درد کی گہری شکن آ ہی گئی تھی پھر بھی اس کا زرد چہرہ پرسکون تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جب تک ہوش میں…

  • |

    ھم تم

    پی ایم سی کی بہاریں وہ گداز یادیں وہ چمکتے سے چہرے وہ دمکتی سی باتیں مدھم مدھم سے لہجے شگفتہ شگفتہ سی سوچیں رہ رہ کر ھم یاد کریں کہاں گئی وہ یادیں کہاں گئی وہ بہاریں چھپ گئے وہ چہرے کھو گئی وہ باتیں امید کی چند کرنوں میں آخری ہے باقی آئو…

  • محبوب

    میں چراغوں کے کام آتا ھوا بجھ گیا، روشنی بناتا ھوا وہ بھی دل میں مرے اترتی ھوئی میں بھی اس کو پسند آتا ھوا پھر وہ آنکھوں سے ھو گیا اوجھل دور تک ہاتھ کو ہلاتا ہوا جھیل میں تیرتا ہوا مہتاب دھن اداسی کی گنگناتا ہوا روز صحرا میں چھوڑ آتا ہے راستہ…