Similar Posts

  • |

    راستہ۔۔۔۔

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے ….کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام…

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ‎ہم کسی کے ایک تھے کوئی ہمارا ایک تھا ‎رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اُجالے اب کُھلے ‎تُو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا ‎خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر ‎مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک…

  • محبوب

    میں چراغوں کے کام آتا ھوا بجھ گیا، روشنی بناتا ھوا وہ بھی دل میں مرے اترتی ھوئی میں بھی اس کو پسند آتا ھوا پھر وہ آنکھوں سے ھو گیا اوجھل دور تک ہاتھ کو ہلاتا ہوا جھیل میں تیرتا ہوا مہتاب دھن اداسی کی گنگناتا ہوا روز صحرا میں چھوڑ آتا ہے راستہ…

  • |

    ھم تم

    پی ایم سی کی بہاریں وہ گداز یادیں وہ چمکتے سے چہرے وہ دمکتی سی باتیں مدھم مدھم سے لہجے شگفتہ شگفتہ سی سوچیں رہ رہ کر ھم یاد کریں کہاں گئی وہ یادیں کہاں گئی وہ بہاریں چھپ گئے وہ چہرے کھو گئی وہ باتیں امید کی چند کرنوں میں آخری ہے باقی آئو…

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    لرزتے ہونٹ کہیں کیا بھلا خدا حافظ اگر یہی ہے تمہاری رضا خدا حافظ پڑاؤ رات کا تھا زندگی کا تھوڑی تھا بُلا رہی ہے جرَس کی صدا خدا حافظ وہ میرے سانس کی صورت تھا میرے سینے میں پھر اک دن اُس نے اچانک کہا، خدا حافظ بدل چُکا ہے زمانہ بھی اور منزل…

  • |

    چھاوں کا سفر

    🌷🌷چھاؤں کا سفر🌷🌷 میری ماں موت کی آغوش میں بھی خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔۔ مجسم شکرو ایثارِ وفا جو زندگی بھر جھلس کر ہم کو ٹھنڈی چھاؤں دیتی تھی اب اسکی چاند سی روشن جبیں پر درد کی گہری شکن آ ہی گئی تھی پھر بھی اس کا زرد چہرہ پرسکون تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جب تک ہوش میں…