Similar Posts

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ‎ہم کسی کے ایک تھے کوئی ہمارا ایک تھا ‎رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اُجالے اب کُھلے ‎تُو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا ‎خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر ‎مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک…

  • محبوب

    میں چراغوں کے کام آتا ھوا بجھ گیا، روشنی بناتا ھوا وہ بھی دل میں مرے اترتی ھوئی میں بھی اس کو پسند آتا ھوا پھر وہ آنکھوں سے ھو گیا اوجھل دور تک ہاتھ کو ہلاتا ہوا جھیل میں تیرتا ہوا مہتاب دھن اداسی کی گنگناتا ہوا روز صحرا میں چھوڑ آتا ہے راستہ…

  • |

    ھم تم

    پی ایم سی کی بہاریں وہ گداز یادیں وہ چمکتے سے چہرے وہ دمکتی سی باتیں مدھم مدھم سے لہجے شگفتہ شگفتہ سی سوچیں رہ رہ کر ھم یاد کریں کہاں گئی وہ یادیں کہاں گئی وہ بہاریں چھپ گئے وہ چہرے کھو گئی وہ باتیں امید کی چند کرنوں میں آخری ہے باقی آئو…

  • |

    دریائے ھڈسن کے کنارے۔۔۔

    بات ہو رہی تھی، پی ایم سی کی، کلاس ۹۳ کی ہماری گیٹ ٹو گیدر کی، پھر سے مل بیٹھنےکی کسی نے کہا ، دریائےکنہار کے کنارے، ناران میں بان فائیر،صوفیکلام ،غلام شبیر بھائ کی آواز میں کسی نے مشورہ دیا وادئ کیلاش کا کلاس ٹرپ چلم جوش، رنگ برنگ، حسیں موسمِ بہار میں a…

  • |

    راستہ۔۔۔۔

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے ….کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام…

  • اک عمر پڑی ھے

    اک عمر پڑی ھے فیض احمد فیض اِس وقت تو یوں لگتا ہے کہیی کچھ بھی نہیں ہے، مہتاب، نہ سورج، نہ اندھیرا، نہ سویرا آنکھوں کے دریچوں میی کِسی حسن کی چلمن، اور دِل کی پناہوں میں کِسی درد کا ڈیرا شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید، اب آ کے کرے گا…