Similar Posts

  • |

    راستہ۔۔۔۔

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے ….کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام…

  • |

    پکی قبر ۔ مبشرہ ناز

    جب سے ماں جی فوت ہوئی تھیں آج پہلی بار خواب میں آئیں۔۔۔ میرے بالکل پاس ہی بیٹھی بتا رہی تھیں کہ۔۔۔ آج پھیکے کی امّاں سے ملنے گئی تھی۔۔۔ پھییکے نے اُن کے لیئے بہت سوہنا پکا گھر بنوایا ہے اور اُن کےصحن میں بہت خوبصورت پھل دار درخت بھی لگواۓ ہیں۔۔۔ اور پھر…

  • |

    سورہ الدھر

    کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے جب وہ کوئ قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تا کہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا،…

  • |

    سورہ الزلزلہ

    جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جاۓ گی،اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی،اور انسان کہے گا کہ یہ اس کو کیا ہو رہا ہے،اس روز وہ اپنے اوپر گزرے ہوۓ حالات بیان کرے گی، کیونکہ تیرے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہو…

  • |

    آخری معرکہ۔۔۔

    فائنل پراف میڈیسن میں ہماری معصوم پر عقابی نگاہ اور ہاتھی جیسے حافظے والی میڈم انٹرنل اور نعیم صاحب جو ھمارے ہی ریٹائرڈ پروفیسر تھے، ایکسٹرنل کے طور آئے۔۔۔۔ نعیم صاب کی تعریف میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ بلال صاحب تو ان کے آگے رحمت کا فرشتہ ہیں۔ وہ تو بڑے بڑے پروفیسروں…

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    لرزتے ہونٹ کہیں کیا بھلا خدا حافظ اگر یہی ہے تمہاری رضا خدا حافظ پڑاؤ رات کا تھا زندگی کا تھوڑی تھا بُلا رہی ہے جرَس کی صدا خدا حافظ وہ میرے سانس کی صورت تھا میرے سینے میں پھر اک دن اُس نے اچانک کہا، خدا حافظ بدل چُکا ہے زمانہ بھی اور منزل…