Similar Posts

  • |

    غزل ۔ شکیل جاذب

    عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ‎ہم کسی کے ایک تھے کوئی ہمارا ایک تھا ‎رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اُجالے اب کُھلے ‎تُو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا ‎خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر ‎مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک…

  • | |

    نعتِ محبوبﷺ

    سجتي ہے سر ارضي یہ دستارِ مدینہاس شان سے رخشندہ ہیں انوار ِ مدینہ ہے حسرتِ دردار بھی اس آنکھ پہ قربانجس آنکھ میں ہے حسرتِ دیدارِ مدینہ کیوں رشک نہیں آئے بھلا شمس و قمر کوانوارِ مدینہ ہیں یہ انوارِ مدینہ سائے میں تیرے کاسہ لیے شاہ کھڑے ہیںکیا شان تری گنبدِ سرکارِ مدینہ…

  • |

    سورہ الیل

    قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے،اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو، اور اس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا، درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں ۔تو جس نے راہ خدا میں مال دیا اور اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کیا، اور بھلائی کو سچ مانا،…

  • |

    کچھ میٹھا ھو جائے۔۔

    میں کالج میں تھی تو کافی عرصہ گھ سے کھانا فریز ہو کہ آتا تھا ۔۔۔ہم کافی سارے لوگ مل کے کے کھاتے تھے ۔۔۔۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔۔۔ میں اعلان کر کے آئی کے آ جاؤ قورمہ اور پلاؤ ہے ۔۔۔۔ جب کھانا کھا رہے تھے تو کسی نے پوچھا یار تمھاری…

  • |

    کچھ شرارت ھو جائے

    کالج کے در ودیوار۔۔ کالج کا سنہری زمانہ کب کسی کو بھولتا ہے۔۔ بشرطیکہ اس کے ساتھ کچھ بہت بھیڑا نا ہوا ہو۔۔ کچھ لوگوں کے بڑے بڑے کارناموں کے ساتھ ساتھ ہم جیسوں کی معصوم سی شراتیں بھی چلتی رہتی تھیں۔۔ ایسا ہی ایک چھوٹا سا، نکا سا، معصوم سا واقعہ ہے تھرڈ ائیر…